مودی کے وعدوں پرتنقید،دلتوں کوانصاف دلانے اورمتحدکرنے کااظہارِعزم
انا15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جنوری میں حیدرآباد یونیورسٹی میں پھانسی لگا کر خودکشی کرنے والے دلت طالب علم روہت ویملا کی ماں رادھکا ویملا کو گجرات کے انامیں خاص اعزازدیاگیا۔انہوں نے وہاں کے ایک سرکاری اسکول میں قومی پرچم لہرایا۔گجرات کا یہ چھوٹاساقصبہ گزشتہ کئی دنوں سے قومی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔گزشتہ ماہ گائے کے قتل کے الزام میں چار دلت نوجوانوں کو کار سے باندھ کرکپڑے اتار ڈالے اور مجھے پیٹا گیا تھا۔دہلی میں لال قلعہ سے ہم وطنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجی ہم آہنگی کی اہمیت اور معاشرے کے نچلے طبقے کے حقوق کے تئیں اپنی حکومت کے عزم کی بات کی۔انا میں آج جمع ہوئے ہزاروں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے وعدے سن،سن کر تھک چکے ہیں۔ان میں جے این یو کے اسٹوڈنٹ یونین لیڈرکنہیا کمار بھی شامل تھے۔روہت ویملا نے خودکشی سے پہلے حیدرآباد یونیورسٹی کے حکام پر ذات کی بنیاد پر ظلم و ستم کاالزام لگایا تھا، وہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر تھے۔انا میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کنہیا کمار نے وزیر اعظم کے گجرات کی ترقی کی کہانیوں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہاکہ آپ نے گجرات کی ترقی کے ماڈل کی پول کھول دی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا سفر سیاسی نہیں ہے اور اس کا مقصد دلتوں کو ان کا حق دلانے کیلئے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انامیں دلتوں پر مظالم کی ویڈیو ریکارڈنگ کو عوامی کرنے کا بدلہ لے رہے ہیں۔لوگوں کا غصہ بڑھا تو آنندی بین پٹیل کو بی جے پی نے گجرات کی وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا۔ات کے 8فیصد عوام دلت ہیں اور انا میں ہوئے مظالم کی ناراضگی پنجاب اور اتر پردیش تک پھیل گئی ہے۔ان ریاستوں میں بڑی تعداد میں دلت رہتے ہیں اور اگلے سال یہاں بھی انتخابات ہونے ہیں۔یوم آزادی پر انا اور ریاست کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں مسلمان انا پہنچ کر دلتوں کی حمایت کر رہے ہیں۔